18 نومبر 2011 - 20:30

میڈیا سے گفتگو میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بینظیر قتل کیس میں اہم ملزم پکڑے ہیں، قابل اعتماد شواہد بھی ملے ہیں، یہ بھی معلوم ہے کہ بینظیر قتل کی سازش کس غیر سرکاری دفتر میں بنائی گئی اور دہشتگردوں نے کہاں لباس بدلا۔

ابنا: وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے بینظیر بھٹو کے قتل کی سازش تیار کئے جانے کے مقام کا پتہ چل جانے کا دعویٰ کیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ منصور اعجاز میمو ایشو پر سفیر حسین حقانی کی وضاحت اطمینان بخش نہ ہوئی تو تحقیقات کرائی جائیں گی۔ رحمان ملک نے سندھی ثقافت کے حوالے سے اسلام آباد میں ایک تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میمو کا معاملہ ایک امریکی شہری اور سفیر کے درمیان ہے، صدر اور حکومت اس بارے میں واضح کر چکے ہیں اور ابھی فوری مقدمہ قائم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، انہوں نے کہا کہ معلوم کرنا ہے کہ میمو کس نے لکھا اور کس نے بھجوایا، رحمان ملک نے بتایا کہ ڈیڑھ سو پارلیمنٹرینز سے استعفٰی دلانے کے لئے انہیں قتل کی دھمکی کے ایس ایم ایس بھیجے گئے، اس واقعہ میں لاڑکانہ سے 2 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ بینظیر قتل کیس میں اہم ملزم پکڑے ہیں، قابل اعتماد شواہد بھی ملے ہیں، یہ بھی معلوم ہے کہ بینظیر قتل کی سازش کس غیر سرکاری دفتر میں بنائی گئی اور دہشتگردوں نے کہاں لباس بدلا، انہوں نے کہا کہ پارٹی نے فیصلہ کیا تو بینظیر قتل کیس کی تمام سازش بے نقاب کر دیں گے۔ دیگر ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کی منصوبہ بندی سے متعلق شواہد موجود ہیں اور اس میں پرویز مشرف کے علاوہ دیگر عناصر بھی ملوث ہیں۔ حکومت قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی۔ اسلام آباد میں سندھی ثقافت سے متعلق تقریب سے خطاب کے بعد میڈیا سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ شہید بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔ حکومت عدلیہ کا احترام کرتی ہے۔ سندھ کی سیاست پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شرجیل میمن کا معاملہ صوبائی ہے، اس لئے ان کیلئے اس پر بات کرنا مناسب نہیں۔ حسین حقانی کے بارے ایک سوال کے جواب میں انہوں ے کہا کہ اگر وہ منصور اعجاز کے معاملے پر تسلی بخش جواب نہ دے سکے تو مزید تحقیقات کی جائیں گی۔

......

/169